سعودی سپریم کورٹ کی 18 مارچ کو شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل

سعودی سپریم کورٹ نے شہریوں سے 18 مارچ کی شام شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص چاند دیکھے وہ اپنی گواہی قریبی عدالت یا متعلقہ مرکز میں درج کروائے۔
عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چاند کو براہ راست یا دوربین کے ذریعے دیکھنے والے افراد اپنی شہادت ریکارڈ کرائیں تاکہ عیدالفطر کے اعلان کے لیے درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ جن افراد کو چاند دیکھنے کا تجربہ ہے وہ مقامی کمیٹیوں کے ساتھ شامل ہو کر اس عمل میں حصہ لیں اور اس نیک کام کے ذریعے اجر و ثواب حاصل کریں۔
دوسری جانب سعودی وزارت افرادی قوت نے نجی اور غیر منافع بخش اداروں کے لیے عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔
وزارت کے ترجمان محمد الرزقی کے مطابق نجی اور غیر منافع بخش اداروں میں عیدالفطر کے موقع پر چار روزہ تعطیلات دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ تعطیلات بدھ 18 مارچ کو کام کے اختتام سے شروع ہوں گی اور چار دن تک جاری رہیں گی۔
ادھر International Astronomical Center نے چاند کی رویت سے متعلق فلکیاتی پیشگوئی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک میں پہلا روزہ 18 فروری کو رکھا گیا تھا وہاں 18 مارچ کو شوال کے چاند کی تلاش کی جائے گی۔
مرکز کے مطابق 18 مارچ کو بیشتر علاقوں میں چاند نظر آنا ممکن نہیں کیونکہ اس دن چاند سورج سے پہلے غروب ہو جائے گا، اس لیے امکان ہے کہ ان ممالک میں رمضان کے 30 روزے مکمل ہونے کے بعد جمعہ 20 مارچ کو عیدالفطر منائی جائے گی۔ تاہم بعض ممالک میں رویت مشکل ہونے کی صورت میں عید ہفتہ 21 مارچ کو بھی ہو سکتی ہے۔











